عمران خان رہائی امن موومنٹ’ پر کوئی مسلح فورس موجود نہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا آئینی عدالت میں مؤقف

‘عمران خان رہائی امن موومنٹ’ پر کوئی مسلح فورس موجود نہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا آئینی عدالت میں مؤقف

اسلام آباد: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے وفاقی آئینی عدالت میں جمع کرائے گئے جواب میں واضح کیا ہے کہ “عمران خان رہائی فورس” کے نام سے نہ کوئی مسلح تنظیم موجود ہے، نہ اسے تشکیل دیا گیا ہے اور نہ ہی اسے کبھی فعال کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اصل میں “عمران خان رہائی امن موومنٹ” ایک پرامن، غیر مسلح، رضاکارانہ اور سیاسی و عوامی آگاہی کی مہم ہے۔

یہ جواب درخواست گزار ملک ظہیر احمد کی جانب سے دائر درخواست کے جواب میں جمع کرایا گیا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ عمران خان کی رہائی کے لیے مبینہ فورس کی تشکیل آئین کے خلاف ہے اور اس سے امن و امان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی وفاقی آئینی عدالت کا بینچ اس درخواست پر 29 جولائی کو سماعت کرے گا۔ اس سے قبل یکم اپریل کو عدالت نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو جواب جمع کرانے کی ہدایت کی تھی۔

وزیراعلیٰ کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ “عمران خان رہائی فورس” کا نہ کوئی قانونی وجود ہے، نہ اس کا کوئی نوٹیفکیشن جاری کیا گیا اور نہ ہی کسی مسلح یا نیم فوجی ڈھانچے پر غور کیا گیا۔

جواب میں کہا گیا کہ اگر ماضی میں “فورس” کا لفظ استعمال ہوا بھی ہو تو اس کی کوئی قانونی یا عملی حیثیت نہیں، جبکہ اصل مہم “عمران خان رہائی امن موومنٹ” ہے، جس کا مقصد قانون کے مطابق کارروائی اور انصاف کے تقاضوں سے متعلق عوام میں شعور اجاگر کرنا ہے۔

وزیراعلیٰ نے عدالت کو بتایا کہ یہ تحریک مکمل طور پر آئینی، قانونی اور جمہوری دائرے میں رہتے ہوئے ایک سیاسی رہنما کی رہائی کے لیے پرامن جدوجہد پر مبنی ہے، جس کا کسی قسم کی طاقت، تشدد یا عسکریت سے کوئی تعلق نہیں۔

جواب میں درخواست گزار کی جانب سے اس تحریک کا ماضی کی بعض تنظیموں سے موازنہ بھی مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ تقابل حقائق کے منافی، گمراہ کن اور قانونی طور پر ناقابل قبول ہے۔

وزیراعلیٰ نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ کسی سیاسی تحریک کی تشکیل یا اس سے متعلق پالیسی فیصلے سیاسی جماعت کا داخلی معاملہ ہوتے ہیں، نہ کہ وزیراعلیٰ کے آئینی یا انتظامی اختیارات کا حصہ۔ انہوں نے کہا کہ بطور وزیراعلیٰ ان کے پاس کسی سیاسی تحریک کو سرکاری حیثیت میں قائم کرنے کا نہ اختیار ہے اور نہ ہی ایسا کوئی مینڈیٹ۔

جواب میں درخواست کو قبل از وقت، مفروضوں اور میڈیا رپورٹس پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس میں کسی بنیادی حق کی حقیقی یا فوری خلاف ورزی ثابت نہیں کی گئی، اس لیے آئینی طور پر یہ درخواست قابلِ سماعت نہیں۔

وزیراعلیٰ کے مطابق درخواست سیاسی بنیادوں پر دائر کی گئی ہے، اس میں حقائق کو غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے اور درخواست گزار کسی قانونی نقصان یا مؤثر جواز کو ثابت کرنے میں بھی ناکام رہا ہے، لہٰذا درخواست کو مسترد کیا جانا چاہیے۔

ویب سائٹ |  متعلقہ پوسٹ