گھریلو باغبانی اور جدید زراعت سے غذائی قلت کا مقابلہ، مضافاتی علاقوں میں خوشحالی کی نئی لہر

گھریلو باغبانی اور جدید زراعت سے غذائی قلت کا مقابلہ، مضافاتی علاقوں میں خوشحالی کی نئی لہر

انیس ٹکر

پشاور: پاکستان میں جہاں زراعت معیشت کی ریڑھ کی ہڈی تصور کی جاتی ہے، وہاں آج بھی لاکھوں خاندان سستی اور غذائیت سے بھرپور خوراک کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔ اس تناظر میں پشاور کے مضافاتی علاقوں میں ایک کمیونٹی پر مبنی منصوبے نے غذائی تحفظ اور غذائیت کی بہتری کے لیے ایک امید افزا اور عملی حل پیش کیا ہے، جس سے مقامی خاندانوں کی زندگیوں میں نمایاں تبدیلی آرہی ہے۔

منصوبے کا پس منظر اور اشتراک

“پشاور کے مضافاتی علاقوں میں غذائی صورتحال کی بہتری کے لیے لچک پیدا کرنا” کے عنوان سے شروع کیے گئے اس منصوبے پر ’صباون‘ (SABAWON) نامی تنظیم عملدرآمد کر رہی ہے۔ اسے ’ویلٹ ہنگر ہلفے‘ (WHH) کی تکنیکی معاونت اور جرمن وفاقی وزارت برائے اقتصادی تعاون و ترقی (BMZ) کا مالی تعاون حاصل ہے۔ یہ منصوبہ خاص طور پر یونین کونسل خزانہ اور گلبہلہ کے سات دیہی کونسلوں میں کام کر رہا ہے، جہاں کے مکینوں کو زمین کی کمی اور خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں جیسے دوہرے چیلنجز کا سامنا تھا۔

جدید زرعی تکنیک اور اختراع

اس اقدام کی خاص بات زمین کی قلت کے باوجود خوراک کی پیداوار کے لیے جدید اور سادہ طریقوں کا استعمال ہے۔ منصوبے کے تحت گھروں کی چھتوں پر باورچی خانہ باغبانی (Rooftop Gardening)، ہائیڈروپونک سبزیوں کی کاشت، ٹنل فارمنگ اور بھوسے کے تھیلوں میں مشروم (خومبی) کی کاشت جیسے طریقے متعارف کرائے گئے ہیں۔ ان تکنیکوں نے خاندانوں کو بازار پر انحصار کم کرنے اور گھر بیٹھے تازہ و صحت بخش سبزیاں حاصل کرنے کے قابل بنا دیا ہے۔ خاص طور پر مشروم کی کاشت کو “گیم چینجر” قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس میں کم جگہ اور کم سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے۔

خواتین کا کلیدی کردار اور معاشی خود مختاری

پروجیکٹ مینیجر ڈاکٹر اویس اخونزادہ کے مطابق، اس کامیابی کے پیچھے خواتین کا مرکزی کردار ہے۔ کمیونٹی گروپس کے ذریعے خواتین کو غذائیت، حفظانِ صحت، اور جدید کاشتکاری کی تربیت دی گئی۔ آج یہ خواتین نہ صرف اپنے کچن گارڈنز سنبھال رہی ہیں بلکہ اضافی پیداوار فروخت کر کے اپنے خاندان کی آمدنی میں بھی اضافہ کر رہی ہیں۔ اس سے نہ صرف گھر کی غذائی ضروریات پوری ہو رہی ہیں بلکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے دور میں ان خاندانوں کو مالی سہارا بھی میسر آ رہا ہے۔

طرزِ زندگی میں تبدیلی اور صحت کے اثرات

منصوبے کے تحت صرف خوراک پیدا کرنے پر ہی توجہ نہیں دی گئی بلکہ لوگوں کے رویوں میں تبدیلی لانے کے لیے آگاہی سیشنز بھی منعقد کیے گئے۔ ان سیشنز میں متوازن غذا، بچوں کی خوراک اور صفائی ستھرائی کے عالمی اصولوں کے بارے میں بتایا گیا۔ بیس لائن سروے کے مقابلے میں اب مقامی آبادی کی غذائی تنوع (Dietary Diversity) میں واضح بہتری آئی ہے۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ تازہ سبزیوں کے استعمال اور بہتر صفائی کی بدولت بچوں کی صحت میں مثبت تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔

ایک قابلِ تقلید ماڈل

پاکستان کے لیے، جو عالمی بھوک کے اشاریے میں سنجیدہ چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، پشاور کا یہ ماڈل ایک روشن مثال ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زراعت، تعلیم اور خواتین کی بااختیاری کو یکجا کر کے ہی غذائی قلت جیسے پیچیدہ مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ خزانہ اور گلبہلہ کی کامیابی یہ ثابت کرتی ہے کہ اگر کمیونٹی کو صحیح علم اور وسائل فراہم کیے جائیں تو وہ خود کفالت کی منزل حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ منصوبہ نہ صرف پشاور بلکہ پورے ملک کے لیے ایک پائیدار حل کے طور پر ابھرا ہے۔

ویب سائٹ |  متعلقہ پوسٹ