سینئر صحافی کے گھر سے مبینہ غیر قانونی میٹر اتارنے کا معاملہ، ایکسین پیسکو چارسدہ کے خلاف مقدمہ درج

سینئر صحافی کے گھر سے مبینہ غیر قانونی میٹر اتارنے کا معاملہ، ایکسین پیسکو چارسدہ کے خلاف مقدمہ درج

چارسدہ: چارسدہ میں سینئر صحافی قیصر محمود کے گھر سے مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر بجلی کا میٹر اتارنے، دھمکیاں دینے اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے معاملے پر ایکسین پیسکو چارسدہ قاضی فہیم کے خلاف تھانہ سٹی چارسدہ میں باقاعدہ مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی قیصر محمود، جو روزنامہ چارسدہ نیوز اور روزنامہ تعدیل پشاور کے چیف ایڈیٹر بھی ہیں، نے بجلی چوری، کنڈا کلچر، غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، لائن لاسز کے نام پر بجلی کے اڈے گرانے، ایکسین آفس میں مبینہ ٹاوٹ ازم اور بجلی کے غیر قانونی کاروبار کے خلاف عوامی مفاد میں مسلسل خبریں شائع کی تھیں۔

ان خبروں کی اشاعت کے بعد قیصر محمود کے مطابق ایکسین پیسکو چارسدہ قاضی فہیم نے انہیں ہراساں کرنا شروع کیا، دھمکیاں دیں اور بالآخر بغیر کسی قانونی نوٹس کے ان کے گھر سے بجلی کا میٹر اتروایا گیا، ساتھ ہی مبینہ طور پر غیر قانونی جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔

واقعے کے بعد قیصر محمود نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) چارسدہ کو تحریری درخواست دی، جس پر ڈی پی او نے ایس ایچ او تھانہ سٹی چارسدہ کو قانونی کارروائی کی ہدایت کی۔ ایس ایچ او نے معاملہ قانونی رائے کے لیے ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر (DPP) کو ارسال کیا، جہاں سے مقدمہ درج کرنے کے لیے متعلقہ دفعات تجویز کی گئیں۔ اس کے بعد تھانہ سٹی چارسدہ پولیس نے ایکسین پیسکو قاضی فہیم کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق 19 اگست 2025 کو قیصر محمود کے گھر سے بجلی کا میٹر غائب پایا گیا، جس کی رپورٹ انہوں نے فوری طور پر متعلقہ حکام اور پولیس میں درج کروائی۔ بعد ازاں یہ انکشاف ہوا کہ میٹر مبینہ طور پر ایکسین پیسکو کے کہنے پر اتروایا گیا اور واپڈا دفتر میں اس کے ساتھ ٹیمپرنگ کی گئی، تاکہ صحافی کو جھوٹے مقدمات میں پھنسا یا جا سکے۔

واضح رہے کہ اس واقعے کا نوٹس چیف پیسکو اور نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بھی لیا تھا، جہاں ایکسین پیسکو چارسدہ کو طلب کرکے سخت سرزنش کی گئی اور سینئر صحافی کو فوری ریلیف دینے کے احکامات جاری کیے گئے، تاہم مبینہ طور پر ان احکامات پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔

قیصر محمود کا کہنا ہے کہ میں نے یہ معاملہ وفاقی محتسب کے عدالت میں بھی لے گیا تھا جہاں پر ایکس ای این کے خلاف فیصلہ ہوا تھا اور وفاقی محتسب عدالت نے تمام متعلقہ حکام بالا کو بھی آگاہ کیا تھا کہ انکو فوری طور پر ریلیف دے دیا جائے لیکن ایکس ای این نے عدالتی احکامات کو پامال کرکے اپنی من مانی جاتی رکھی.

دوسری جانب چارسدہ کے سینئر صحافیوں، سماجی شخصیات اور سول سوسائٹی نے مقدمے کے اندراج کو قانون کی بالادستی اور آزادیٔ صحافت کی جیت قرار دیا ہے۔ ان حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں اور اگر الزامات ثابت ہوں تو ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

ویب سائٹ |  متعلقہ پوسٹ