شیرگڑھ مبینہ اغوا و جنسی زیادتی کیس: متاثرہ طالبہ کو ایک کروڑ روپے کی پیشکش کا انکشاف، عوام کا جے آئی ٹی کے قیام کا مطالبہ

شیرگڑھ مبینہ اغوا و جنسی زیادتی کیس: متاثرہ طالبہ کو ایک کروڑ روپے کی پیشکش کا انکشاف، عوام کا جے آئی ٹی کے قیام کا مطالبہ

عثمان علی

مردان: ضلع مردان کے علاقے شیرگڑھ میں ساتویں جماعت کی طالبہ کے مبینہ اغوا اور جنسی زیادتی کے مقدمے میں نئے انکشافات سامنے آئے ہیں، جبکہ متاثرہ خاندان اور مقامی عوام نے تحقیقات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومت سے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

پولیس کی جانطب سے درج شدہ ایف ائی ار

پولیس ریکارڈ کے مطابق ساتویں جماعت کی طالبہ (ش) یکم جون کو اگلی جماعت میں داخلے کے لیے گھر سے نکلی تھی۔ پولیس ایف آئی ار کے مطابق راستے میں گاڑی میں سوار تین افراد نے اسے اغوا کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا، جہاں اسے تقریباً ایک ہفتے تک حبسِ بے جا میں رکھا گیا۔ مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ مرکزی ملزم اویس نے طالبہ کو مبینہ طور پر نشہ آور چیز پلا کر متعدد بار جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

ایف آئی آر کے مطابق متاثرہ لڑکی کو 7 جون کو نیم بے ہوشی کی حالت میں چھوڑ دیا گیا، جس کے بعد واقعہ سامنے آیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ درج ہونے کے بعد کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم سمیت دو ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ تیسرے ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ پولیس کے مطابق تفتیش جاری ہے اور واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب کیس میں ایک اہم انکشاف بھی سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق جب متاثرہ طالبہ ایف آئی آر درج کرا رہی تھی تو سفید کپڑوں میں ملبوس ایک شخص نے مبینہ طور پر ایک کروڑ روپے کے عوض معاملہ ختم کرنے کی پیشکش کی۔ متاثرہ لڑکی نے مبینہ طور پر اس پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث تمام افراد کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔

متاثرہ خاندان نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ انہیں مقدمے کے بعض نامزد ملزمان کے حوالے سے دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ تفتیشی عمل میں تاخیر پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ تاہم ان الزامات پر پولیس کا مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا۔

کیس کے خلاف عوامی ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ شیرگڑھ میں مقامی افراد نے مبینہ طور پر تحقیقات میں سستی اور ملزمان کی پشت پناہی کے خلاف بھوک ہڑتالی کیمپ قائم کیا۔ احتجاج میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، سماجی کارکنوں اور شہریوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر شرکاء نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ کیس کی شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دی جائے تاکہ متاثرہ طالبہ اور اس کے خاندان کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔

یاد رہے کہ مقدمے کی تحقیقات جاری ہیں اور الزامات کا حتمی تعین عدالت اور متعلقہ تحقیقاتی اداروں کی کارروائی کے بعد ہی ممکن ہوگا۔

Usman Ali
Correspondent |  + posts