لوئر کرم میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کا فیصلہ
ضلع کرم: لوئر کرم میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر ضلع کرم نے آپریشن کے دوران متاثرہ آبادی کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ٹل اور ہنگو میں عارضی طور پر ٹی ڈی پیز کیمپ قائم کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔
ضلعی انتظامیہ نے متاثرین کے لیے ٹل ڈگری کالج، ٹیکنیکل کالج، ریسکیو 1122، اور عدالت کی عمارت میں کیمپ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ متاثرین کی عارضی رہائش کے لیے خالی کلاس رومز کا جائزہ لیا گیا، جنہیں موزوں قرار دیا گیا ہے۔ صفائی اور دیگر ضروری سہولیات کی بروقت فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ محکموں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ اس تمام عمل کی نگرانی کے لیے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔
ڈپٹی کمشنر گوہر زمان وزیر کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ متاثرہ اور بے گھر خاندانوں کو تمام ممکنہ سہولیات فراہم کرنے کے لیے متحرک ہے۔
یاد رہے کہ ضلع کرم کے علاقے بگن میں دو روز قبل دہشت گردوں نے سیکیورٹی فورسز اور مسافر گاڑیوں پر حملے کیے۔ ایک واقعے میں دو سیکیورٹی اہلکار اور چار ڈرائیور جاں بحق ہوئے، جبکہ پانچ اہلکار زخمی ہوئے۔ جوابی کارروائی میں چھ حملہ آور ہلاک اور دس زخمی ہوئے۔
پولیس کے مطابق، لوئر کرم کے علاقے اڑاولی سے چار ڈرائیوروں کی ہاتھ بندھی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، جنہیں تشدد کے بعد گولی مار کر قتل کیا گیا تھا۔ تاجر رہنماؤں کے مطابق، 35 ٹرکوں میں سے صرف دو بحفاظت واپس پہنچے، جبکہ دیگر ٹرکوں کو لوٹ کر جلا دیا گیا۔ ان ٹرکوں میں اربوں روپے کا سامان موجود تھا۔
پاراچنار سے پشاور جانے والے قافلے پر اوچت کے مقام پر فائرنگ کے ایک اور واقعے میں 42 افراد جاں بحق ہوئے۔ خیبر پختونخوا حکومت کے مطابق، ضلع کرم میں فرقہ وارانہ جھڑپوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 133 سے تجاوز کر چکی ہے۔
یہ تمام واقعات دہشت گردی کی سنگینی کو اجاگر کرتے ہیں، اور ان ہی واقعات کے بعد آپریشن کا فیصلہ کیا گیا ہے۔